ممکن ہے مل ہی جائے مقام سکوں کہیں
تا مرگ ہم رکاب رہو زندگی کے ساتھ
انور صابری
روز آپس میں لڑا کرتے ہیں ارباب خرد
کوئی دیوانہ الجھتا نہیں دیوانے سے
انور صابری
روز آپس میں لڑا کرتے ہیں ارباب خرد
کوئی دیوانہ الجھتا نہیں دیوانے سے
انور صابری
نگاہ و دل سے گزری داستاں تک بات جا پہنچی
مرے ہونٹوں سے نکلی اور کہاں تک بات جا پہنچی
انور صابری
ممکن ہے مرے بعد بھلا دیں مجھے لیکن
تا عمر انہیں میری وفا یاد رہے گی
انور صابری
محبت ہے ازل کے دن سے شامل میری فطرت میں
بلا تفریق شیخ و برہمن سے عشق ہے مجھ کو
انور صابری
میری نگاہ فکر میں انورؔ
عشق فسانہ حسن ہے عریاں
انور صابری
شامل ہو گر نہ غم کی خلش زندگی کے ساتھ
رکھے نہ کوئی ربط محبت کسی کے ساتھ
انور صابری
مجھے تسلیم ہے قید قفس سے موت بہتر ہے
نشیمن پر ہجوم برق و باراں کون دیکھے گا
انور صابری

