EN हिंदी
انور دہلوی شیاری | شیح شیری

انور دہلوی شیر

28 شیر

پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب
میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا

انور دہلوی




مٹی خراب ہے ترے کوچہ میں ورنہ ہم
اب تک تو جس زمیں پہ رہے آسماں رہے

انور دہلوی




نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

انور دہلوی




ناکامیٔ وصال کا پیغام ہے مجھے
شیریں کا ذکر بھی نہ کرو کوہ کن کے ساتھ

انور دہلوی




نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت
کہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت

انور دہلوی




نیند کا کام گرچہ آنا ہے
میری آنکھوں میں پر نہیں آتی

انور دہلوی




پھینکیے کیوں مئے ناقص ساقی
شیخ صاحب کی ضیافت ہی سہی

انور دہلوی




ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں
آگ دل میں دبائے بیٹھے ہیں

انور دہلوی




تھک کے بیٹھے ہو در صومعہ پر کیا انورؔ
دو قدم اور کہ یہ خانہ خمار رہا

انور دہلوی