EN हिंदी
انجم خلیق شیاری | شیح شیری

انجم خلیق شیر

39 شیر

مری تعمیر بہتر شکل میں ہونے کو ہے انجمؔ
کہ جنگل صاف ہونے سے نگر آباد ہوتے ہیں

انجم خلیق




سو میری پیاس کا دونوں طرف علاج نہیں
ادھر ہے ایک سمندر ادھر ہے ایک سراب

انجم خلیق




ستم تو یہ ہے کہ فوج ستم میں بھی انجمؔ
بس اپنے لوگ ہی دیکھوں جدھر نگاہ کروں

انجم خلیق




سروں سے تاج بڑے جسم سے عبائیں بڑی
زمانے ہم نے ترا انتخاب دیکھ لیا

انجم خلیق




نخل انا میں زور نمو کس غضب کا تھا
یہ پیڑ تو خزاں میں بھی شاداب رہ گیا

انجم خلیق




مری ہوس کے مقابل یہ شہر چھوٹے ہیں
خلا میں جا کے نئی بستیاں تلاش کروں

انجم خلیق




میں اب تو شہر میں اس بات سے پہچانا جاتا ہوں
تمہارا ذکر کرنا اور کرتے ہی چلے جانا

انجم خلیق




مرے جنوں کو ہوس میں شمار کر لے گا
وہ میرے تیر سے مجھ کو شکار کر لے گا

انجم خلیق




تحیر ہے بلا کا یہ پریشانی نہیں جاتی
کہ تن ڈھکنے پہ بھی جسموں کی عریانی نہیں جاتی

انجم خلیق