EN हिंदी
انجم عرفانی شیاری | شیح شیری

انجم عرفانی شیر

23 شیر

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے
بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

انجم عرفانی




لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ
وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

انجم عرفانی




لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا
پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

انجم عرفانی




مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ
کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

انجم عرفانی




مٹھی سے پھسلے ہی جاتے ہیں ہر پھل
وصل کے لمحے تار ریشم ہوتے ہیں

انجم عرفانی




پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام
انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

انجم عرفانی




ادھر سچ بولنے گھر سے کوئی دیوانہ نکلے گا
ادھر مقتل میں استقبال کی تیاریاں ہوں گی

انجم عرفانی




یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ
قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

انجم عرفانی




یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی
حال جس درد کا جس رنج کا جب سے پوچھو

انجم عرفانی