EN हिंदी
علی سردار جعفری شیاری | شیح شیری

علی سردار جعفری شیر

20 شیر

شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

علی سردار جعفری




پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

علی سردار جعفری




پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

علی سردار جعفری




سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
ہم کو آوارگی ہی راس آئی

علی سردار جعفری




شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

علی سردار جعفری




یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

علی سردار جعفری




یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے
نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

علی سردار جعفری




یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست
وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

علی سردار جعفری




پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

علی سردار جعفری