EN हिंदी
اختر انصاری شیاری | شیح شیری

اختر انصاری شیر

25 شیر

شباب درد مری زندگی کی صبح سہی
پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے

اختر انصاری




مری خبر تو کسی کو نہیں مگر اخترؔ
زمانہ اپنے لیے ہوشیار کیسا ہے

اختر انصاری




رنگ و بو میں ڈوبے رہتے تھے حواس
ہائے کیا شے تھی بہار آرزو

اختر انصاری




رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض
شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے

اختر انصاری




روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے

اختر انصاری




سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا
تڑپتا ہوں مگر اوروں کو تڑپانا نہیں آتا

اختر انصاری




شباب نام ہے اس جاں نواز لمحے کا
جب آدمی کو یہ محسوس ہو جواں ہوں میں

اختر انصاری




وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا
نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

اختر انصاری




یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا
اب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا

اختر انصاری