روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
اختر انصاری
رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض
شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے
اختر انصاری
رنگ و بو میں ڈوبے رہتے تھے حواس
ہائے کیا شے تھی بہار آرزو
اختر انصاری
مری خبر تو کسی کو نہیں مگر اخترؔ
زمانہ اپنے لیے ہوشیار کیسا ہے
اختر انصاری
آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
اختر انصاری
میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا
اب سخن کی آڑ میں کیا کچھ نہ کہنا آ گیا
اختر انصاری
کوئی روئے تو میں بے وجہ خود بھی رونے لگتا ہوں
اب اخترؔ چاہے تم کچھ بھی کہو یہ میری فطرت ہے
اختر انصاری
کوئی مآل محبت مجھے بتاؤ نہیں
میں خواب دیکھ رہا ہوں مجھے جگاؤ نہیں
اختر انصاری
جب سے منہ کو لگ گئی اخترؔ محبت کی شراب
بے پیے آٹھوں پہر مدہوش رہنا آ گیا
اختر انصاری

