EN हिंदी
آغا حجو شرف شیاری | شیح شیری

آغا حجو شرف شیر

25 شیر

کیا بجھائے گا مرے دل کی لگی وہ شعلہ رو
دوڑتا ہے جو لگا کے آگ پانی کے لئے

آغا حجو شرف




خلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی
وہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں

آغا حجو شرف




کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو
منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں

آغا حجو شرف




کبھی جو یار کو دیکھا تو خواب میں دیکھا
مری مراد بھی آئی تو مستعار آئی

آغا حجو شرف




آمد آمد ہے ترے شہر میں کس وحشی کی
بند رہنے کی جو تاکید ہے بازاروں کو

آغا حجو شرف




جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا
یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا

آغا حجو شرف




عشق بازوں کی کہیں دنیا میں شنوائی نہیں
ان غریبوں کی قیامت میں سماعت ہو تو ہو

آغا حجو شرف




عشق ہو جائے گا میری داستان عشق سے
رات بھر جاگا کرو گے اس کہانی کے لئے

آغا حجو شرف




ہمیشہ شیفتہ رکھتے ہیں اپنے حسن قدرت کا
خود اس کی روح ہو جاتے ہیں جس کا تن بناتے ہیں

آغا حجو شرف