EN हिंदी
افضل خان شیاری | شیح شیری

افضل خان شیر

34 شیر

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا
تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا

افضل خان




تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

افضل خان




تری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا
یہ مرا دل ہے کوئی خالی اسامی تو نہیں

افضل خان




تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے
ہم کو لاحق ہیں وہی اب بھی جو غم پہلے تھے

افضل خان




تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا
یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا

افضل خان




ساتھیو اب مجھے رستے میں اترنا ہوگا
ڈوبتی ناؤ بچانے کا نہیں حل کوئی اور

افضل خان




پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر
شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

افضل خان




تو مجھے تنگ نہ کر اے دل آوارہ مزاج
تجھ کو اس شہر میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا

افضل خان




سزائے موت پہ فریاد سے تو بہتر ہے
گلے لگا کے کہوں دار کو مبارک باد

افضل خان