تو کہیں بیٹھ اور حکم چلا
ہم جو ہیں تیرا بوجھ ڈھونے کو
ابرار احمد
کہیں کوئی چراغ جلتا ہے
کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی
ابرار احمد
کہ جیسے کنج چمن سے صبا نکلتی ہے
ترے لیے میرے دل سے دعا نکلتی ہے
ابرار احمد
میں ٹھہرتا گیا رفتہ رفتہ
اور یہ دل اپنی روانی میں رہا
ابرار احمد
مرکز جاں تو وہی تو ہے مگر تیرے سوا
لوگ ہیں اور بھی اس یاد پرانی میں کہیں
ابرار احمد
قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ
پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ
ابرار احمد
یہ داغ عشق جو مٹتا بھی ہے چمکتا بھی ہے
یہ زخم ہے کہ نشاں ہے مجھے نہیں معلوم
ابرار احمد
یوں ہی نمٹا دیا ہے جس کو تو نے
وہ قصہ مختصر ایسا نہیں تھا
ابرار احمد
یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہے
سوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا
ابرار احمد

