EN हिंदी
ابرار احمد شیاری | شیح شیری

ابرار احمد شیر

22 شیر

کہ جیسے کنج چمن سے صبا نکلتی ہے
ترے لیے میرے دل سے دعا نکلتی ہے

ابرار احمد




کہیں کوئی چراغ جلتا ہے
کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

ابرار احمد




بھر لائے ہیں ہم آنکھ میں رکھنے کو مقابل
اک خواب تمنا تری غفلت کے برابر

ابرار احمد




جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے
جانے یوں ہے بھی کہ ایسا نظر آتا ہے مجھے

ابرار احمد




جس کام میں ہم نے ہاتھ ڈالا
وہ کام محال ہو گیا ہے

ابرار احمد




ہر رخ ہے کہیں اپنے خد و خال سے باہر
ہر لفظ ہے کچھ اپنے معانی سے زیادہ

ابرار احمد




ہر ایک آنکھ میں ہوتی ہے منتظر کوئی آنکھ
ہر ایک دل میں کہیں کچھ جگہ نکلتی ہے

ابرار احمد




ہم یقیناً یہاں نہیں ہوں گے
غالباً زندگی رہے گی ابھی

ابرار احمد




ہم اپنی راہ پکڑتے ہیں دیکھتے بھی نہیں
کہ کس ڈگر پہ یہ خلق خدا نکلتی ہے

ابرار احمد