EN हिंदी
آغا اکبرآبادی شیاری | شیح شیری

آغا اکبرآبادی شیر

27 شیر

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ
بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

آغا اکبرآبادی




کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آج
قینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آج

آغا اکبرآبادی




مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہ
آئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹا

آغا اکبرآبادی




میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا
در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا

آغا اکبرآبادی




او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائے
اپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دے

آغا اکبرآبادی




رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے
حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا

آغا اکبرآبادی




رند مشرب ہیں کسی سے ہمیں کچھ کام نہیں
دیر اپنا ہے نہ کعبہ نہ کلیسا اپنا

آغا اکبرآبادی




وعدۂ بادۂ اطہر کا بھروسہ کب تک
چل کے بھٹی پہ پئیں جرعۂ عرفاں کیسا

آغا اکبرآبادی




طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجب
کلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیں

آغا اکبرآبادی