EN हिंदी
یقین کے خلاف | شیح شیری
yaqin ke KHilaf

نظم

یقین کے خلاف

شارق کیفی

;

بھروسا بھروسا
یہ کیا رٹ لگائی ہے تم نے؟

تم الگ ہو کوئی اس جہاں سے
ارے

جیسا میں ویسے تم
میں ہی جب آج کی صبح ویسا نہ تھا جیسا سویا تھا رات

تو پھر کس لیے اور کیوں
میں تمہاری پرانی وفاداریوں پر بھروسا کروں

یہ بتاؤ