EN हिंदी
وہ کون تھا | شیح شیری
wo kaun tha

نظم

وہ کون تھا

شہریار

;

وہ کون تھا وہ کون تھا
طلسم شہر آرزو جو توڑ کر چلا گیا

ہر ایک تار روح کا جھنجھوڑ کر چلا گیا
مجھے خلا کے بازوؤں میں چھوڑ کر چلا گیا

ستم شعار آسماں تو تھا نہیں
اداسیوں کا راز داں تو تھا نہیں

وہ میرا جسم ناتواں تو تھا نہیں
تو کون تھا

وہ کون تھا؟