رات کی کھلی کھڑکی
بند ہونے والی ہے
چاند کے کٹورے میں
اوس بھرنے والی ہے
یہ عجب سفر اس کا
اب تمام ہوتا ہے
لا زوال ہونے کا
دیکھو کیا بہانہ ہے
کل بھی اک حقیقت تھا
آج بھی فسانہ ہے
آسمان کی جانب
سب کے ہاتھ اٹھتے ہیں
اس کے خون کی سرخی
برگ و بار لائے گی
بے نماز بندوں پر
یعنی ان درندوں پر
ہر قدم مصائب کا
انتظار لائے گا
نظم
لا زوال ہونے کا
شہریار

