EN हिंदी
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے | شیح شیری
mahfil-ara the magar phir kam-numa hote gae

غزل

محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے

منیر نیازی

;

محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے

نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئی
ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے

منتظر جیسے تھے در شہر فراق آثار کے
اک ذرا دستک ہوئی در دم میں وا ہوتے گئے

حرف پردہ پوش تھے اظہار دل کے باب میں
حرف جتنے شہر میں تھے حرف لا ہوتے گئے

وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے