EN हिंदी
انٹیقام شیاری | شیح شیری

انٹیقام

8 شیر

حسن کو شرمسار کرنا ہی
عشق کا انتقام ہوتا ہے

اسرار الحق مجاز




عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ
شکست کھا کے وہ پانی میں زہر ڈال آیا

اظہر عنایتی




میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

فیصل عجمی




یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے
یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے

حسیب سوز




تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعرؔ




خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

ابراہیم اشکؔ




کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے

میر تقی میر