راہ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن
ولی محمد ولی
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں
ولی محمد ولی
کشن کی گوپیاں کی نئیں ہے یہ نسل
رہیں سب گوپیاں وہ نقل یہ اصل
ولی محمد ولی
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
ولی محمد ولی
نہ ہو کیوں شور دل کی بانسلی میں
ملاحت کا سلونا کان پہنچا
ولی محمد ولی
پھر میری خبر لینے وہ صیاد نہ آیا
شاید کہ مرا حال اسے یاد نہ آیا
ولی محمد ولی
تیرے لب کے حقوق ہیں مجھ پر
کیوں بھلا دوں میں دل سے حق نمک
ولی محمد ولی
یاد کرنا ہر گھڑی تجھ یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
ولی محمد ولی
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
ولی محمد ولی

