EN हिंदी
وحید اختر شیاری | شیح شیری

وحید اختر شیر

23 شیر

نیند بن کر مری آنکھوں سے مرے خوں میں اتر
رت جگا ختم ہو اور رات مکمل ہو جائے

وحید اختر




کرنوں سے تراشا ہوا اک نور کا پیکر
شرمایا ہوا خواب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے

وحید اختر




لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے
جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے

وحید اختر




مانگنے والوں کو کیا عزت و رسوائی سے
دینے والوں کی امیری کا بھرم کھلتا ہے

وحید اختر




مسجد ہو مدرسہ ہو کہ مجلس کہ مے کدہ
محفوظ شر سے کچھ ہے تو گھر ہے چلے چلو

وحید اختر




مری اڑان اگر مجھ کو نیچے آنے دے
تو آسمان کی گہرائی میں اتر جاؤں

وحید اختر




عمر بھر ملتے رہے پھر بھی نہ ملنے پائے
اس طرح مل کہ ملاقات مکمل ہو جائے

وحید اختر




زیر پا اب نہ زمیں ہے نہ فلک ہے سر پر
سیل تخلیق بھی گرداب کا منظر نکلا

وحید اختر




یاد آئی نہ کبھی بے سر و سامانی میں
دیکھ کر گھر کو غریب الوطنی یاد آئی

وحید اختر