EN हिंदी
تری پراری شیاری | شیح شیری

تری پراری شیر

22 شیر

شعر پڑھتے ہوئے یہ تم نے کبھی سوچا ہے
شعر کہتے ہوئے میں کتنی دفع مرتا ہوں

تری پراری




محبت میں شکایت کر رہا ہوں
شکایت میں محبت کر رہا ہوں

تری پراری




نیند آئے تو کچھ سراغ ملے
کون ہے دفن میرے خوابوں میں

تری پراری




پیاس ایسی تھی کہ میں سارا سمندر پی گیا
پر مرے ہونٹوں کے یہ دونوں کنارے جل گئے

تری پراری




قتل کرنا ہے نئے خواب کا سو ڈرتا ہوں
کانپ جائیں نہ مرے ہاتھ یہ خوں کرتے ہوئے

تری پراری




روح ہے ترجمہ پانیوں کا اگر
جسم یعنی سمندر میں اک ناؤ ہے

تری پراری




تم مرے پاس نہ آؤ کہ یہی بہتر ہے
پاس آنے سے تو پہچان بھی جا سکتی ہے

تری پراری




یہ بارش کب رکے گی کون جانے
کہیں میں مر نہ جاؤں تشنگی سے

تری پراری




عمر بھر لڑتا رہا ہوں اس سے
وہ جو اک شخص کبھی تھا ہی نہیں

تری پراری