EN हिंदी
تعشق لکھنوی شیاری | شیح شیری

تعشق لکھنوی شیر

29 شیر

قافلے رات کو آتے تھے ادھر جان کے آگ
دشت غربت میں جدھر اے دل سوزاں ہم تھے

تعشق لکھنوی




موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھے
ہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروں

تعشق لکھنوی




مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنے
تم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہے

تعشق لکھنوی




مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تو
میں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروں

تعشق لکھنوی




مجھے ہے فکر خط بھیجا ہے جب سے اس گل تر کو
ہزاروں بلبلیں روکیں گی رسی میں کبوتر کو

تعشق لکھنوی




منتظر تیرے ہیں چشم خوں فشاں کھولے ہوئے
بیٹھے ہیں دل بیچنے والے دکاں کھولے ہوئے

تعشق لکھنوی




نجد سے جانب لیلیٰ جو ہوا آتی ہے
دل مجنوں کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے

تعشق لکھنوی




پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی
لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں

تعشق لکھنوی




وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمال
عجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پر

تعشق لکھنوی