ساحلوں کی شفیق آنکھوں میں
دھوپ کپڑے اتار کر چمکے
شین کاف نظام
کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے
کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے
شین کاف نظام
کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر
ورنہ کہیں گے لوگ دعا سے اثر گیا
شین کاف نظام
من میں دھرتی سی للک آنکھوں میں آکاش
یاد کے آنگن میں رہا چہرے کا پرکاش
شین کاف نظام
من رفتار سے بھاگتا جاتا ہے کس اور
پلک جھپکتے شام ہے پلک جھپکتے بھور
شین کاف نظام
منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے
دے رات کی ٹھنڈک کو پگھلنے کی دعا دے
شین کاف نظام
نکلے کبھی نہ گھر سے مگر اس کے باوجود
اپنی تمام عمر سفر میں گزر گئی
شین کاف نظام
پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو
خود سے باہر بھی تو کبھی دیکھو
شین کاف نظام
یادوں کی رت کے آتے ہی سب ہو گئے ہرے
ہم تو سمجھ رہے تھے سبھی زخم بھر گئے
شین کاف نظام

