EN हिंदी
شین کاف نظام شیاری | شیح شیری

شین کاف نظام شیر

31 شیر

پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو
خود سے باہر بھی تو کبھی دیکھو

شین کاف نظام




نکلے کبھی نہ گھر سے مگر اس کے باوجود
اپنی تمام عمر سفر میں گزر گئی

شین کاف نظام




منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے
دے رات کی ٹھنڈک کو پگھلنے کی دعا دے

شین کاف نظام




من رفتار سے بھاگتا جاتا ہے کس اور
پلک جھپکتے شام ہے پلک جھپکتے بھور

شین کاف نظام




من میں دھرتی سی للک آنکھوں میں آکاش
یاد کے آنگن میں رہا چہرے کا پرکاش

شین کاف نظام




کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر
ورنہ کہیں گے لوگ دعا سے اثر گیا

شین کاف نظام




کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے
کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے

شین کاف نظام




آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں
رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی

شین کاف نظام




جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے
کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے

شین کاف نظام