کم سنی جن کی ہمیں یاد ہے اور کل کی ہی بات
آج انہیں دیکھیے کیا ہو گئے کیا سے بڑھ کر
شرف مجددی
جس کو چاہا تو نے اس کو مل گیا
ورنہ تجھ کو پانے والا کون تھا
شرف مجددی
عالم عشق میں اللہ رے نظر کی وسعت
نقطۂ وہم ہوا گنبد گردوں مجھ کو
شرف مجددی
اس پردے میں یہ حسن کا عالم ہے الٰہی
بے پردہ وہ ہو جائیں تو کیا جانئے کیا ہو
شرف مجددی
انتہائے معرفت سے اے شرفؔ
میں نے جو دیکھا جو سمجھا کچھ نہ تھا
شرف مجددی
حضرت ناصح بھی مے پینے لگے
اب مجھے سمجھانے والا کون تھا
شرف مجددی
حیرت میں ہوں الٰہی کیوں کر یہ ختم ہوگا
کوتاہ روز محشر قصہ دراز میرا
شرف مجددی
ایک کو ایک نہیں رشک سے مرنے دیتا
یہ نیا کوچۂ قاتل میں تماشا دیکھا
شرف مجددی
دخت رز زاہد سے بولی مجھ سے گھبراتے ہو کیوں
کیا تمہیں ہو پاک دامن پارسا میں بھی تو ہوں
شرف مجددی

