شیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیں
میکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں
شرف مجددی
جس کو چاہا تو نے اس کو مل گیا
ورنہ تجھ کو پانے والا کون تھا
شرف مجددی
کم سنی جن کی ہمیں یاد ہے اور کل کی ہی بات
آج انہیں دیکھیے کیا ہو گئے کیا سے بڑھ کر
شرف مجددی
پامالیوں کا زینہ ہے عرش سے بھی اونچا
دل اس کی راہ میں ہے کیا سرفراز میرا
شرف مجددی
پارسا بن کے سوئے مے خانہ
سر جھکائے ہوئے ہم جاتے ہیں
شرف مجددی
قدموں پہ گرا تو ہٹ کے بولے
اندھا ہے تو دیکھتا نہیں ہے
شرف مجددی
تصور نے ترے آباد جب سے گھر کیا میرا
نکلتا ہی نہیں دن رات اپنے گھر میں رہتا ہے
شرف مجددی
عشاق کے آگے نہ لڑا غیروں سے آنکھیں
ڈر ہے کہ نہ ہو جائے لڑائی ترے در پر
شرف مجددی
تیری آنکھیں جسے چاہیں اسے اپنا کر لیں
کاش ایسا ہی سکھا دیں کوئی افسوں مجھ کو
شرف مجددی

