EN हिंदी
سردار گینڈا سنگھ مشرقی شیاری | شیح شیری

سردار گینڈا سنگھ مشرقی شیر

29 شیر

پھاڑ کر خط اس نے قاصد سے کہا
کوئی پیغام زبانی اور ہے

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں
آنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میں

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




خیال ناف میں زلفوں نے مشکیں باندھ دیں میری
شناور کس طرح گرداب سے بے دست و پا نکلے

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




کھولا دروازہ سمجھ کر مجھ کو غیر
کھا گئے دھوکا مری آواز سے

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




کس سے دوں تشبیہ میں زلف مسلسل کو تری
فکر ہے کوتاہ اور مضموں بہت ہے دور کا

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




لٹکتے دیکھا سینہ پر جو تیرے تار گیسو کو
اسے دیوانے وحشت میں ترا بند قبا سمجھے

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




مزہ دیکھا کسی کو اے پری رو منہ لگانے کا
اب آئینہ بھی کہتا ہے کہ میں مد مقابل ہوں

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




نہ چلو مجھ سے تم رقیبو چال
انگلیوں پر تمہیں نچا دوں گا

سردار گینڈا سنگھ مشرقی




زاہد مری سمجھ میں تو دونوں گناہ ہیں
تو بت شکن ہوا جو میں توبہ شکن ہوا

سردار گینڈا سنگھ مشرقی