EN हिंदी
ثاقب لکھنوی شیاری | شیح شیری

ثاقب لکھنوی شیر

17 شیر

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے
سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے

ثاقب لکھنوی




زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ثاقب لکھنوی




اس کے سننے کے لئے جمع ہوا ہے محشر
رہ گیا تھا جو فسانہ مری رسوائی کا

ثاقب لکھنوی




سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال
دیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے

ثاقب لکھنوی




سونے والوں کو کیا خبر اے ہجر
کیا ہوا ایک شب میں کیا نہ ہوا

ثاقب لکھنوی




مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

ثاقب لکھنوی




کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو
زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے

ثاقب لکھنوی




کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی مگر
خاموش ہو گیا ہے چمن بولتا ہوا

ثاقب لکھنوی




جس شخص کے جیتے جی پوچھا نہ گیا ثاقبؔ
اس شخص کے مرنے پر اٹھے ہیں قلم کتنے

ثاقب لکھنوی