EN हिंदी
سالک لکھنوی شیاری | شیح شیری

سالک لکھنوی شیر

24 شیر

نگاہ شوق سے لاکھوں بنا ڈالے ہیں در ہم نے
قفس میں بھی نہیں مانی شکست بال و پر ہم نے

سالک لکھنوی




منزل نہ ملی کشمکش اہل نظر میں
اس بھیڑ سے میں اپنی نظر لے کے چلا ہوں

سالک لکھنوی




مٹ چکے جو بھی تھے توبہ شکنی کے اسباب
اب نہ مے خانہ نہ پیمانہ نہ شیشہ نہ سبو

سالک لکھنوی




ناخدا ڈوبنے والوں کی طرف مڑ کے نہ دیکھ
نہ کریں گے نہ کناروں کی تمنا کی ہے

سالک لکھنوی




نظر سے دیکھ تو ساقی اک آئینہ بنایا ہے
شکستہ شیشہ و ساغر کے ٹکڑے جوڑ کر ہم نے

سالک لکھنوی




نگاہ مہر کہاں کی وہ برہمی بھی گئی
میں دوستی کو جو رویا تو دشمنی بھی گئی

سالک لکھنوی




یہ بھی اک رات کٹ ہی جائے گی
صبح فردا کی منتظر ہے نگاہ

سالک لکھنوی




زنداں میں اچانک ہے یہ کیا شور سلاسل
یہ سالکؔ بے باک کا ماتم تو نہیں ہے

سالک لکھنوی




یونہی انسانوں کے شہروں میں ملا اپنا وجود
کسی ویرانے میں اک پھول کھلا ہو جیسے

سالک لکھنوی