EN हिंदी
سالک لکھنوی شیاری | شیح شیری

سالک لکھنوی شیر

24 شیر

ناخدا ڈوبنے والوں کی طرف مڑ کے نہ دیکھ
نہ کریں گے نہ کناروں کی تمنا کی ہے

سالک لکھنوی




مٹ چکے جو بھی تھے توبہ شکنی کے اسباب
اب نہ مے خانہ نہ پیمانہ نہ شیشہ نہ سبو

سالک لکھنوی




منزل نہ ملی کشمکش اہل نظر میں
اس بھیڑ سے میں اپنی نظر لے کے چلا ہوں

سالک لکھنوی




آج بھی ہے وہی مقام آج بھی لب پہ ان کا نام
منزل بے شمار گام اپنے سفر کو کیا کروں

سالک لکھنوی




محو یوں ہو گئے الفاظ دعا وقت دعا
ہاتھ سے ظرف طلب چھوٹ گیا ہو جیسے

سالک لکھنوی




مال و زر اہل دول سامنے یوں گنتے ہیں
ہم فقیروں نے نہ کچھ صرف کیا ہو جیسے

سالک لکھنوی




کھینچ بھی لیجئے اچھا تو ہے تصویر جنوں
آپ کی بزم میں کیا جانئے کل ہوں کہ نہ ہوں

سالک لکھنوی




کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں
ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے

سالک لکھنوی




کہی کسی سے نہ روداد زندگی میں نے
گزار دینے کی شے تھی گزار دی میں نے

سالک لکھنوی