سو بار آئی ہونٹوں پہ جھوٹی ہنسی مگر
اک بار بھی نہ دل سے کبھی مسکرا سکے
سلام سندیلوی
خوشی کے پھول کھلے تھے تمہارے ساتھ کبھی
پھر اس کے بعد نہ آیا بہار کا موسم
سلام سندیلوی
کیا اسی کو بہار کہتے ہیں
لالہ و گل سے خوں ٹپکتا ہے
سلام سندیلوی
متاع غم مرے اشکوں ہی تک نہیں محدود
انہیں میں ٹوٹے ستاروں کو بھی شمار کرو
سلام سندیلوی
مجھ کو تو خون دل ہی پینا ہے
دست ساقی میں گر ہے جام تو کیا
سلام سندیلوی
رہ حیات چمک اٹھے کہکشاں کی طرح
اگر چراغ محبت کوئی جلا کے چلے
سلام سندیلوی
تیرہ و تار فضاؤں میں جیا ہوں اب تک
نکہت و نور کے ایام کی حسرت ہی رہی
سلام سندیلوی
یوں باغباں نے مہر لگا دی زبان پر
روداد غم نصیب کے مارے نہ کہہ سکے
سلام سندیلوی
یہ تو معلوم ہے ان تک نہ سدا پہنچے گی
جانے کیا سوچ کے آواز دیئے جاتا ہوں
سلام سندیلوی

