سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کے
ملتا ہے جس سے یار نہ ایسی پڑھائی بات
رضا عظیم آبادی
خواہ کافر مجھے کہہ خواہ مسلمان اے شیخ
بت کے ہاتھوں میں بکا یا ہوں خدا کی سوگند
رضا عظیم آبادی
کس طرح رضاؔ تو نہ ہو دھوانے زمانہ
جب دل سا تری بیٹھا ہو بدنام بغل میں
رضا عظیم آبادی
کیا کہیں اپنی سیہ بختی ہی کا اندھیر ہے
ورنہ سب کی ہجر کی رات ایسی کالی بھی نہیں
رضا عظیم آبادی
نہ کعبہ ہے یہاں میرے نہ ہے بت خانہ پہلو میں
لیا کس گھر بسے نے آہ آ کر خانہ پہلو میں
رضا عظیم آبادی
نو مشق عشق ہیں ہم آہیں کریں عجب کیا
گیلی جلے گی لکڑی کیوں کر دھواں نہ ہوگا
رضا عظیم آبادی
رفو پھر کیجیو پیراہن یوسف کو اے خیاط
سیا جائے تو سی پہلے تو چاک دل زلیخا کا
رضا عظیم آبادی
سنتے تو تھے رضاؔ ہیں سب ہیں بڑے مسلماں
پر کفر میں زیادہ نکلے وہ برہمن سے
رضا عظیم آبادی
زخم کے لگتے ہی کیا کھل گئے چھاتی کے کواڑ
آگے یہ خانۂ دلچسپ ہوا دار نہ تھا
رضا عظیم آبادی

