سبھوں کی آ گئی پیری جو تم جوان ہوئے
زمیں کا دل ہوا مٹی خم آسمان ہوئے
رشید لکھنوی
خدا جانے یہ گردش کا طریقہ کب نکالا ہے
جسے کہتے ہیں گردوں اک مرے پاؤں کا چھالا ہے
رشید لکھنوی
معشوق کون سا ہے نہ ہو دل میں جس کی یاد
اس مختصر سے باغ میں کس گل کی بو نہیں
رشید لکھنوی
نہیں ہے جس میں تیرا عشق وہ دل ہے تباہی میں
وہ کشتی ڈوب جائے گی نہ جس میں نا خدا ہوگا
رشید لکھنوی
قید کی مدت بڑھی چھٹنے کی جب تدبیر کی
روز بدلی جاتی ہیں کڑیاں مری زنجیر کی
رشید لکھنوی
راس آئے تم کو ملک عشق کی آب و ہوا
عاشقو ہر وقت شغل آہ و زاری چاہیے
رشید لکھنوی
تم نے احسان کیا ہے کہ نمک چھڑکا ہے
اب مجھے زخم جگر اور مزا دیتے ہیں
رشید لکھنوی
زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے
مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی
what is labeled living, how is death defined
Finding your favour, when you are unkind
رشید لکھنوی
وہ گیسو بڑھتے جاتے ہیں بلائیں ہوتی ہیں نازل
قدم تک آ گئے جب حشر عالم میں بپا ہوگا
رشید لکھنوی

