EN हिंदी
رسا چغتائی شیاری | شیح شیری

رسا چغتائی شیر

32 شیر

صرف مانع تھی حیا بند قبا کھلنے تلک
پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا

رسا چغتائی




عشق میں بھی سیاستیں نکلیں
قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا

رسا چغتائی




جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو
میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

رسا چغتائی




کون دل کی زباں سمجھتا ہے
دل مگر یہ کہاں سمجھتا ہے

رسا چغتائی




مٹی جب تک نم رہتی ہے
خوشبو تازہ دم رہتی ہے

رسا چغتائی




صحرائے بے خیال میں جل تھل کہاں کے ہیں
آخر ہوائے شوق یہ بادل کہاں کے ہیں

رسا چغتائی




شہر میں جیسے کوئی آسیب ہے
شہر میں مدت سے ہنگامہ نہیں

رسا چغتائی




شعر و سخن کا شہر نہیں یہ شہر عزت داراں ہے
تم تو رساؔ بد نام ہوئے کیوں اوروں کو بد نام کروں

رسا چغتائی




اٹھ رہا ہے دھواں مرے گھر میں
آگ دیوار سے ادھر کی ہے

رسا چغتائی