قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکا
ہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کو
قمر جلالوی
رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ
اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون
قمر جلالوی
روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کو
وہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کر
قمر جلالوی
روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میں
شاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میں
قمر جلالوی
قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
قمر جلالوی
قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں
قمر جلالوی
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے
کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے
قمر جلالوی
پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
wipe not the droplets from your face, let beauty's lustre grow
drops of dew when flowers grace, enhance their freshness so
قمر جلالوی
شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کر
رہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کر
قمر جلالوی

