EN हिंदी
قیصر الجعفری شیاری | شیح شیری

قیصر الجعفری شیر

27 شیر

تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی
قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

قیصر الجعفری




ساون ایک مہینے قیصرؔ آنسو جیون بھر
ان آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے

قیصر الجعفری




رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرم
چادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے

قیصر الجعفری




راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیں
گونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سے

قیصر الجعفری




راستہ دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیں
گونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سے

قیصر الجعفری




آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی
آپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی

قیصر الجعفری




میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے
یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

قیصر الجعفری




کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

those people have been parched for many many years
to whom even a drop of dew an ocean appears

قیصر الجعفری




کم سے کم ریت سے آنکھیں تو بچیں گی قیصرؔ
میں ہواؤں کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہوں

قیصر الجعفری