تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے
تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے
قیصر الجعفری
راستہ دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیں
گونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سے
قیصر الجعفری
راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیں
گونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سے
قیصر الجعفری
رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرم
چادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے
قیصر الجعفری
ساون ایک مہینے قیصرؔ آنسو جیون بھر
ان آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے
قیصر الجعفری
تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی
قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا
قیصر الجعفری
تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئے
آنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے
قیصر الجعفری
زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے
میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
قیصر الجعفری
یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔ
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا
قیصر الجعفری

