EN हिंदी
ناصر شہزاد شیاری | شیح شیری

ناصر شہزاد شیر

28 شیر

سانس میں ساجنا ہوا کی طرح
سانس کا سلسلہ ہوا سے ہے

ناصر شہزاد




پاٹی ہیں ہم نے بپھری چنابیں ترے لئے
ہم لے گئے ہیں تجھ کو سوئمبر سے جیت کے

ناصر شہزاد




پھر مجھے مل ندی کنارے کہیں
پھر بڑھا مان آ کے راہوں کا

ناصر شہزاد




پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یوں ہی بچھڑ گیا
پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یوں ہی کٹ گئے

ناصر شہزاد




پستکوں میں پرانوں میں ارضوں میں آسمانوں میں
ایک نام کی بھگتی ایک قول کا کلمہ

ناصر شہزاد




قائم ہے آبرو تو غنیمت یہی سمجھ
میلے سے ہیں جو کپڑے پھٹا سا جو بوٹ ہے

ناصر شہزاد




سنگت دلوں کی جیونوں مرنوں کا ارتباط
پھر ڈر پڑا تھا کیا تجھے گرد و نواح کا

ناصر شہزاد




عمروں کے بجھتے معمورے میں
میں نے ہر لمحہ تجھ کو سوچا

ناصر شہزاد




تجھے پچھاڑ نہ دیں روشنی میں تیرے رفیق
دیا بجھے نہ بجھے تو بھی پھونک مار تو لے

ناصر شہزاد