EN हिंदी
مصور سبزواری شیاری | شیح شیری

مصور سبزواری شیر

25 شیر

نہ ٹوٹ کر اتنا ہم کو چاہو کہ رو پڑیں ہم
دبی دبائی سی چوٹ اک اک ابھر گئی ہے

مصور سبزواری




کسی کو قصۂ پاکیٔ چشم یاد نہیں
یہ آنکھیں کون سی برسات میں نہائی تھیں

مصور سبزواری




کیا نہ ترک مراسم پہ احتجاج اس نے
کہ جیسے گزرے کسی منزل نجات سے وہ

مصور سبزواری




میں سنگ رہ ہوں تو ٹھوکر کی زد پہ آؤں گا
تم آئینہ ہو تو پھر ٹوٹنا ضروری ہے

مصور سبزواری




میں سنگ رہ نہیں جو اٹھا کر تو پھینک دے
میں ایسا مرحلہ ہوں جو سو بار آئے گا

مصور سبزواری




مرے بچے ترا بچپن تو میں نے بیچ ڈالا
بزرگی اوڑھ کر کاندھے ترے خم ہو گئے ہیں

مصور سبزواری




نہ سوچو ترک تعلق کے موڑ پر رک کر
قدم بڑھاؤ کہ یہ حادثہ ضروری ہے

مصور سبزواری




سجنی کی آنکھوں میں چھپ کر جب جھانکا
بن ہولی کھیلے ہی ساجن بھیگ گیا

مصور سبزواری




وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا
لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح

مصور سبزواری