میں سنگ رہ نہیں جو اٹھا کر تو پھینک دے
میں ایسا مرحلہ ہوں جو سو بار آئے گا
مصور سبزواری
میں سنگ رہ ہوں تو ٹھوکر کی زد پہ آؤں گا
تم آئینہ ہو تو پھر ٹوٹنا ضروری ہے
مصور سبزواری
کیا نہ ترک مراسم پہ احتجاج اس نے
کہ جیسے گزرے کسی منزل نجات سے وہ
مصور سبزواری
کسی کو قصۂ پاکیٔ چشم یاد نہیں
یہ آنکھیں کون سی برسات میں نہائی تھیں
مصور سبزواری
آنکھیں یوں برسیں پیراہن بھیگ گیا
تیرے دھیان میں سارا ساون بھیگ گیا
مصور سبزواری
کنار آب ہوا جب بھی سنسناتی ہے
ندی میں چپکے سے اک چیخ ڈوب جاتی ہے
مصور سبزواری
جو خس بدن تھا جلا بہت کئی نکہتوں کی تلاش میں
میں تمام لوگوں سے مل چکا تری قربتوں کی تلاش میں
مصور سبزواری
جسے میں چھو نہیں سکتا دکھائی کیوں وہ دیتا ہے
فرشتوں جیسی بس میری عبادت دیکھتے رہنا
مصور سبزواری
اسی امید پہ جلتی ہیں دشت دشت آنکھیں
کبھی تو آئے گا عمر خراب کاٹ کے وہ
مصور سبزواری

