کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا
ہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتا
مرزارضا برق ؔ
ہم تو اپنوں سے بھی بیگانہ ہوئے الفت میں
تم جو غیروں سے ملے تم کو نہ غیرت آئی
مرزارضا برق ؔ
ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو
یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا
مرزارضا برق ؔ
اتنا تو جذب عشق نے بارے اثر کیا
اس کو بھی اب ملال ہے میرے ملال کا
مرزارضا برق ؔ
جوش وحشت یہی کہتا ہے نہایت کم ہے
دو جہاں سے بھی اگر وسعت صحرا بڑھ جائے
مرزارضا برق ؔ
خود فروشی کو جو تو نکلے بہ شکل یوسف
اے صنم تیری خریدار خدائی ہو جائے
مرزارضا برق ؔ
نہیں بتوں کے تصور سے کوئی دل خالی
خدا نے ان کو دیے ہیں مکان سینوں میں
مرزارضا برق ؔ
عریاں حرارت تپ فرقت سے میں رہا
ہر بار میرے جسم کی پوشاک جل گئی
مرزارضا برق ؔ
پوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل
بے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی
مرزارضا برق ؔ

