نہ تسلی نہ تشفی نہ دلاسا نہ وفا
عمر کو کاٹیں ترے چاہنے والے کیوں کر
مرزا آسمان جاہ انجم
شب ہجر جب خواب دیکھا یہ دیکھا
کہ تجھ کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں
مرزا آسمان جاہ انجم
صدا چمن سے جو آتی ہے روز چٹ چٹ کی
بلائیں غنچے تری صبح و شام لیتے ہیں
مرزا آسمان جاہ انجم
نقش ہوتی جاتی ہیں لاکھوں بتوں کی صورتیں
کیا یہ دل بھی خطۂ ہندوستاں ہو جائے گا
مرزا آسمان جاہ انجم
نہیں ہے دیر یہاں اپنی جان جانے میں
تمہارے آنے کا بس انتظار باقی ہے
مرزا آسمان جاہ انجم
محبت اس لیے ظاہر نہیں کی
کہ تم کو اعتبار آئے نہ آئے
مرزا آسمان جاہ انجم
مثال چرخ رہا آسماں سر گرداں
پر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہے
مرزا آسمان جاہ انجم
تیری مرضی گر اسی میں ہے کہ ہو دیدار عام
ہم نے آنکھوں پر قدم سارے زمانے کے لیے
مرزا آسمان جاہ انجم
نہ پوچھا اس مسیحا سے کسی نے
ترے بیمار کی بھی کچھ دوا ہے
مرزا آسمان جاہ انجم

