EN हिंदी
مرزا آسمان جاہ انجم شیاری | شیح شیری

مرزا آسمان جاہ انجم شیر

34 شیر

میں نے مانا کہ دل نہیں ناکام
پھر مرے کام کیوں نہیں آتا

مرزا آسمان جاہ انجم




تھک گئے ہم تو فسوں سازیاں کرتے کرتے
اس پہ چلتا نہیں مطلق کوئی گنڈا تعویذ

مرزا آسمان جاہ انجم




تری تیغ کی آب جاتی رہی ہے
مرے زخم پانی چرائے ہوئے ہیں

مرزا آسمان جاہ انجم




ان کے آنے میں کیوں خلل ڈالا
ستیاناس ہو ترا بدلی

مرزا آسمان جاہ انجم




انہیں حال دل کس طرح لکھ کے بھیجیں
نہ ہم ان سے واقف نہ وہ ہم سے واقف

مرزا آسمان جاہ انجم




یہ بتلاؤ ہم کو بھی پہچانتے ہو
ہمیں کیا جو ہو سارے عالم سے واقف

مرزا آسمان جاہ انجم




یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے
واہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہے

مرزا آسمان جاہ انجم




یہ ہے آوارہ طبیعت اور وہ نازک مزاج
میں دل وارفتہ نذر یار کر سکتا نہیں

مرزا آسمان جاہ انجم




جا لگے گی کشتئ دل ساحل امید پر
دیدۂ تر سے اگر دریا رواں ہو جائے گا

مرزا آسمان جاہ انجم