نگاہ و دل کے پاس ہو وہ میرا آشنا رہے
ہوس ہے یا کہ عشق ہے یہ کون سوچتا رہے
مظہر امام
ہمیں وہ ہمیں سے جدا کر گیا
بڑا ظلم اس مہربانی میں تھا
مظہر امام
جب ہم تیرا نام نہ لیں گے
وہ بھی ایک زمانا ہوگا
مظہر امام
کہا یہ سب نے کہ جو وار تھے اسی پر تھے
مگر یہ کیا کہ بدن چور چور میرا تھا
مظہر امام
کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے
اکتا گئے ہیں لوگ فسانہ کہا نہ جائے
مظہر امام
نہ اتنی دور جائیے کہ لوگ پوچھنے لگیں
کسی کو دل کی کیا خبر یہ ہاتھ تو ملا رہے
مظہر امام
تو نہ ہوگا تو کہاں جا کے جلوں گا شب بھر
تجھ سے ہی گرمئ محفل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
مظہر امام
وہ میرا جب نہ ہو سکا تو پھر یہی سزا رہے
کسی کو پیار جب کروں وہ چھپ کے دیکھتا رہے
مظہر امام
اس گھر کی بدولت مرے شعروں کو ہے شہرت
وہ گھر کہ جو اس شہر میں بد نام بہت ہے
مظہر امام

