EN हिंदी
محفوظ الرحمان عادل شیاری | شیح شیری

محفوظ الرحمان عادل شیر

36 شیر

سامنے ماں کے جو ہوتا ہوں تو اللہ اللہ
مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بچہ ہوں ابھی

محفوظ الرحمان عادل




تمہارے بخشے ہوئے آنسوؤں کے قطروں سے
شب فراق میں تارے سجا رہا ہوں میں

محفوظ الرحمان عادل




تری عقل گم تجھے کر نہ دے رہ زندگی میں سنبھل کے چل
تو گماں کی حد نہ تلاش کر کہ کہیں بھی حد گماں نہیں

محفوظ الرحمان عادل




شبنمی قطرے گل لالہ پہ تھے رقص کناں
برف کے ٹکڑے بھی دیکھے گئے انگاروں میں

محفوظ الرحمان عادل




شاخ سے گر کر ہوا کے ساتھ ساتھ
کس طرف یہ زرد پتا جائے گا

محفوظ الرحمان عادل




پرت پرت ترا چہرہ سجا رہا ہوں میں
یہ اتفاق کہ ہیں گھر میں آئنے ٹوٹے

محفوظ الرحمان عادل




مجھ کو شوق جستجوئے کائنات
خاک سے عادلؔ خلا تک لے گیا

محفوظ الرحمان عادل




تمہاری مست آنکھوں کا تصور
مری توبہ سے ٹکرانے لگا ہے

محفوظ الرحمان عادل




قیدی بنا کے رکھا ہے اس نے تمام عمر
مجھ کو حصار جاں سے نکلنے نہیں دیا

محفوظ الرحمان عادل