مرجع گبر و مسلماں ہے وہ بت نام خدا
بھیجتے ہیں اسے ہندو و مسلماں کاغذ
ماتم فضل محمد
جہاں سے ہوں یہاں آیا وہاں جاؤں گا آخر کو
مرا یہ حال ہے یارو نہ مستقبل نہ ماضی ہوں
ماتم فضل محمد
خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہا
کیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوز
ماتم فضل محمد
کوئی آزاد ہو تو ہو یارو
ہم تو ہیں عشق کے اسیروں میں
ماتم فضل محمد
کیا کہوں دن کو کس قدر رویا
رات دلبر کو دیکھ کر رویا میں
ماتم فضل محمد
لا ولد کہتے ہیں ہم کو لا ولد
شعر سے از بس کہ اولادی ہیں ہم
ماتم فضل محمد
رخسار کا دے شرط نہیں بوسۂ لب سے
جو جی میں ترے آئے سو دے یار مگر دے
ماتم فضل محمد
عمر دو چار روز مہماں ہے
خدمت مہماں کروں نہ کروں
ماتم فضل محمد
تخم ریحاں کھلا طبیب مجھے
یعنی ہوں میں مریض حضرت خال
ماتم فضل محمد

