مخاطب جو زاہد سے تو ہو گیا
تو اس کا بھی ٹھنڈا وضو ہو گیا
کشن کمار وقار
امساک میں رہے گی نہ پابندیٔ منی
ہرگز نہیں ہیں مغبچے بنت العنب سے کم
کشن کمار وقار
جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن
اس کو دنیا سے اٹھایا ایک دن
کشن کمار وقار
جو مجھ پر ہے وہی ہے غیر پر لطف
ہوا ہے خاتمہ اس پر وفا کا
کشن کمار وقار
کس واسطے لڑتے ہیں بہم شیخ و برہمن
کعبہ نہ کسی کا ہے نہ بت خانہ کسی کا
کشن کمار وقار
کچھ غم فراق کا ہے نہ کچھ وصل کی خوشی
ہوں اس کے ذوق و شوق میں مسرور رات دن
کشن کمار وقار
میں کہوں آپ تمہیں آپ کہیں تم مجھ کو
تم جتاتے نہیں کس روز تحکم مجھ کو
کشن کمار وقار
مجھی کو گالیاں دیتے رہے وہ
مگر لیتا رہا بوسے چٹا چٹ
کشن کمار وقار
یار نے خط و کبوتر کے کئے ہیں ٹکڑے
پرزے کاغذ کے کریں جمع کہ پر جمع کریں
کشن کمار وقار

