EN हिंदी
کشن کمار وقار شیاری | شیح شیری

کشن کمار وقار شیر

30 شیر

میں کہوں آپ تمہیں آپ کہیں تم مجھ کو
تم جتاتے نہیں کس روز تحکم مجھ کو

کشن کمار وقار




کچھ غم فراق کا ہے نہ کچھ وصل کی خوشی
ہوں اس کے ذوق و شوق میں مسرور رات دن

کشن کمار وقار




کس واسطے لڑتے ہیں بہم شیخ و برہمن
کعبہ نہ کسی کا ہے نہ بت خانہ کسی کا

کشن کمار وقار




جو مجھ پر ہے وہی ہے غیر پر لطف
ہوا ہے خاتمہ اس پر وفا کا

کشن کمار وقار




جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن
اس کو دنیا سے اٹھایا ایک دن

کشن کمار وقار




امساک میں رہے گی نہ پابندیٔ منی
ہرگز نہیں ہیں مغبچے بنت العنب سے کم

کشن کمار وقار




عارض پہ رہی زلف سیہ فام ہمیشہ
پامال رہا کفر کا اسلام ہمیشہ

کشن کمار وقار




ہم بندگان عشق کا مسلک نرالا ہے
کافر کی اس میں وضع نہ دیں دار کی طرح

کشن کمار وقار




ہے جب سے دست گیر جنوں کوئے یار میں
پھرتا ہوں ایک پاؤں سے پرکار کی طرح

کشن کمار وقار