سب نے دیکھا اور سب خاموش تھے
ایک صوفی کا مزار اڑتا ہوا
خورشید طلب
کہ ہم بنے ہی نہ تھے ایک دوسرے کے لیے
اب اس یقین کو جینا حیات کرتے ہوئے
خورشید طلب
کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے
مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے
خورشید طلب
مری مشکل مری مشکل نہیں ہے
وسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں
خورشید طلب
روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا
روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
خورشید طلب
سب ایک دھند لیے پھر رہے ہیں آنکھوں میں
کسی کے چہرے پہ ماضی نہ حال دیکھتا ہوں
خورشید طلب
اس نے آ کر ہاتھ ماتھے پر رکھا
اور منٹوں میں بخار اڑتا ہوا
خورشید طلب
زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز
ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی
خورشید طلب
زمینیں تنگ ہوئی جا رہی ہیں دل کی طرح
ہم اب مکان نہیں مقبرہ بناتے ہیں
خورشید طلب

