میں ہوں اک پیکر خیال و خواب
اور کتنی بڑی حقیقت ہوں
خورشید ربانی
ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا
ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ہے
خورشید ربانی
یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور
یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے
خورشید ربانی
یہ کار محبت بھی کیا کار محبت ہے
اک حرف تمنا ہے اور اس کی پذیرائی
خورشید ربانی
یہ دل کہ زرد پڑا تھا کئی زمانوں سے
میں تیرا نام لیا اور بہار آ گئی ہے
خورشید ربانی
وہ تغافل شعار کیا جانے
عشق تو حسن کی ضرورت ہے
خورشید ربانی
وحشتیں عشق اور مجبوری
کیا کسی خاص امتحان میں ہوں
خورشید ربانی
اتر کے شاخ سے اک ایک زرد پتے نے
نئی رتوں کے لیے راستہ بنایا تھا
خورشید ربانی
ترا بخشا ہوا اک زخم پیارے
چلی ٹھنڈی ہوا جلنے لگا ہے
خورشید ربانی

