EN हिंदी
خالد ملک ساحلؔ شیاری | شیح شیری

خالد ملک ساحلؔ شیر

19 شیر

جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو
میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو

خالد ملک ساحلؔ




ذرے ذرے میں قیامت کا سماں ہے ساحلؔ
ایک ہی دل کے سہارے نہیں رو سکتا میں

خالد ملک ساحلؔ




تم مصلحت کہو یا منافق کہو مجھے
دل میں مگر غبار بہت دیر تک رہا

خالد ملک ساحلؔ




روشنی کی اگر علامت ہے
راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے پر

خالد ملک ساحلؔ




میں تماشا ہوں تماشائی ہیں چاروں جانب
شرم ہے شرم کے مارے نہیں رو سکتا میں

خالد ملک ساحلؔ




میں کس یقین سے لکھا گیا ہوں مٹی پر
وہ کون ہے جو مرے سلسلے کی ڈھال بنا

خالد ملک ساحلؔ




میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا
میں کیسے دوں گا زمانے کو جو نہیں پایا

خالد ملک ساحلؔ




لفظ رنگوں میں نہائے ہوئے گھر میں آئے
تیری آواز کی تصویر میں مصروف تھا میں

خالد ملک ساحلؔ




کسی خیال کا کوئی وجود ہو شاید
بدل رہا ہوں میں خوابوں کو تجربہ کر کے

خالد ملک ساحلؔ